Islamik Book

Home of Islamic Books

2nd year of Hijrat Urdu – Hazrat Muhammad SAWW Ki Madani Zindagi

2nd year of Hijrat Urdu – Hazrat Muhammad SAWW Ki Madani Zindagi

 

 ھ۱ کی طرح ۲ ھ میں بھی بہت سے اہم واقعات وقوع پذیر ہوئے جن میں سے چند بڑے بڑے واقعات یہ ہیں :۔
 
قبلہ کی تبدیلی :۔
 
2nd year of Hijrat Urdu - Hazrat Muhammad SAWW Ki Madani Zindagiجب تک حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مکہ میں رہے خانہ کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے مگر ہجرت کے بعد جب آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تو خداوند تعالیٰ کا یہ حکم ہوا کہ آپ اپنی نمازوں میں ” بیت المقدس ” کو اپنا قبلہ بنائیں۔ چنانچہ آپ سولہ یا سترہ مہینے تک بیت المقدس کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھتے رہے مگر آپ کے دل کی تمنا یہی تھی کہ کعبہ ہی کو قبلہ بنایا جائے۔ چنانچہ آپ اکثر آسمان کی طرف چہرہ اٹھا اٹھا کر اس کے لئے وحیِ الٰہی کا انتظار فرماتے رہے یہاں تک کہ ایک دن اﷲ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی قلبی آرزو پوری فرمانے کے لئے قرآن کی یہ آیت نازل فرما دی کہ
 
قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِ ج فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضٰهَا ص فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ
(بقره)
 
ہم دیکھ رہے ہیں بار بار آپکا آسمان کی طرف منہ کرنا تو ہم ضرور آپ کو پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں آپ کی خوشی ہے تو ابھی آپ پھیر دیجیے اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف ۔
 

 
2nd year of Hijrat Urdu - Hazrat Muhammad SAWW Ki Madani Zindagiچنانچہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم قبیلۂ بنی سلمہ کی مسجد میں نمازِ ظہر پڑھا رہے تھے کہ حالت نماز ہی میں یہ وحی نازل ہوئی اور نماز ہی میں آپ نے بیت المقدس سے مڑ کر خانہ کعبہ کی طرف اپنا چہرہ کر لیا اور تمام مقتدیوں نے بھی آپ کی پیروی کی۔ اس مسجد کو جہاں یہ واقعہ پیش آیا ” مسجد القبلتین ” کہتے ہیں اور آج بھی یہ تاریخی مسجد زیارت گاہ خواص و عوام ہے جو شہر مدینہ سے تقریباً دو کلو میٹر دور جانب شمال مغرب واقع ہے۔
 
اس قبلہ بدلنے کو ” تحویل قبلہ ” کہتے ہیں۔ تحویل قبلہ سے یہودیوں کو بڑی سخت تکلیف پہنچی جب تک حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے تو یہودی بہت خوش تھے اور فخر کے ساتھ کہا کرتے تھے کہ محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) بھی ہمارے ہی قبلہ کی طرف رُخ کر کے عبادت کرتے ہیں مگر جب قبلہ بدل گیا تو یہودی اس قدر برہم اور ناراض ہو گئے کہ وہ یہ طعنہ دینے لگے کہ محمد (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) چونکہ ہر بات میں ہم لوگوں کی مخالفت کرتے ہیں اس لئے انہوں نے محض ہماری مخالفت میں قبلہ بدل دیا ہے۔ اسی طرح منافقین کا گروہ بھی طرح طرح کی نکتہ چینی اور قسم قسم کے اعتراضات کرنے لگا تو ان دونوں گروہوں کی زبان بندی اور دہن دوزی کے لئے خداوند کریم نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔
 
سَيَقُوْلُ السُّفَهَآءُ مِنَ النَّاسِ مَا وَلّٰهُمْ عَنْ قِبْلَتِهِمُ الَّتِيْ کَانُوْا عَلَيْهَا ط قُلْ لِّـلّٰهِ لا الْمَشْرِقُ وَ الْمَغْرِبُ ط يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ اِلٰي صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ
 
اب کہیں گے بیوقوف لوگوں میں سے کس نے پھیر دیا مسلمانوں کو ان کے اس قبلہ سے جس پر وہ تھے آپ کہہ دیجیے کہ پورب پچھم سب اﷲ ہی کا ہے وہ جسے چاہے سیدھی راہ چلاتا ہے
 
وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِيْ کُنْتَ عَلَيْهَآ اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يَّتَّبِعُ الرَّسُوْلَ مِمَّنْ يَّنْقَلِبُ عَلٰي عَقِبَيْهِ ط وَ اِنْ کَانَتْ لَکَبِيْرَةً اِلَّا عَلَي الَّذِيْنَ هَدَي اللّٰهُ ط 
(بقره)
 
اور (اے محبوب) آپ پہلے جس قبلہ پر تھے ہم نے وہ اسی لئے مقرر کیا تھا کہ دیکھیں کون رسول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے اور بلاشبہ یہ بڑی بھاری بات تھی مگر جن کو اﷲ تعالیٰ نے ہدایت دے دی ہے 
(ان کے لئے کوئی بڑی بات نہیں)

 
پہلی آیت میں یہودیوں کے اعتراض کا جواب دیا گیا کہ خدا کی عبادت میں قبلہ کی کوئی خاص جہت ضروری نہیں ہے۔ اس کی عبادت کے لئے پورب، پچھم، اتر، دکھن، سب جہتیں برابر ہیں اﷲ تعالیٰ جس جہت کو چاہے اپنے بندوں کے لئے قبلہ مقرر فرما دے لہٰذا اس پر کسی کو اعتراض کا کوئی حق نہیں ہے۔ دوسری آیت میں منافقین کی زَبان بندی کی گئی ہے جو تحویل قبلہ کے بعد ہر طرف یہ پروپیگنڈا کرنے لگے تھے کہ پیغمبر اسلام تو اپنے دین کے بارے میں خود ہی متردد ہیں کبھی بیت المقدس کو قبلہ مانتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ کعبہ قبلہ ہے۔ آیت میں تحویل قبلہ کی حکمت بتا دی گئی کہ منافقین جو محض نمائشی مسلمان بن کر نمازیں پڑھا کرتے تھے وہ قبلہ کے بدلتے ہی بدل گئے اور اسلام سے منحرف ہو گئے۔ اس طرح ظاہر ہو گیا کہ کون صادق الایمان ہے اور کون منافق اور کون رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والا ہے اور کون دین سے پھر جانے والا۔ 
(عام کتب تفسير و سيرت)
 
لڑائیوں کا سلسلہ :۔
 
اب تک حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو خدا کی طرف سے صرف یہ حکم تھا کہ دلائل اور موعظۂ حسنہ کے ذریعہ لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے رہیں اور مسلمانوں کو کفار کی ایذاؤں پر صبر کا حکم تھا اسی لئے کافروں نے مسلمانوں پر بڑے بڑے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے، مگر مسلمانوں نے انتقام کے لئے کبھی ہتھیار نہیں اٹھایا بلکہ ہمیشہ صبر و تحمل کے ساتھ کفار کی ایذاؤں اور تکلیفوں کو برداشت کرتے رہے لیکن ہجرت کے بعد جب سارا عرب اور یہودی ان مٹھی بھر مسلمانوں کے جانی دشمن ہو گئے اور ان مسلمانوں کو فنا کے گھاٹ اتار دینے کا عزم کر لیا تو خداوند قدوس نے مسلمانوں کو یہ اجازت دی کہ جو لوگ تم سے جنگ کی ابتدا کریں ان سے تم بھی لڑ سکتے ہو۔
 
چنانچہ ۱۲ صفر ۲ ھ تواریخ اسلام میں وہ یادگار دن ہے جس میں خداوند کردگار نے مسلمانوں کو کفار کے مقابلہ میں تلوار اٹھانے کی اجازت دی اور یہ آیت نازل فرمائی کہ
 
اُذِنَ لِلَّذِيْنَ يُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا ط اِنَّ اللّٰهَ عَلٰي نَصْرِهِمْ لَقَدِيْرٌ
 
جن سے لڑائی کی جاتی ہے (مسلمان) ان کو بھی اب لڑنے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ وہ (مسلمان) مظلوم ہیں اور خدا ان کی مدد پر یقینا قادر ہے۔
 
حضرت امام محمد بن شہاب زہری علیہ الرحمۃ کا قول ہے کہ جہاد کی اجازت کے بارے میں یہی وہ آیت ہے جو سب سے پہلے نازل ہوئی۔ مگر تفسیر ابن جریر میں ہے کہ جہاد کے بارے میں سب سے پہلے جو آیت اتری وہ یہ ہے :۔
 
وَ قَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ يُقَاتِلُوْنَکُمْ 
(بقره)
 
خدا کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم لوگوں سے لڑتے ہیں۔
 
بہر حال ۲ ھ میں مسلمانوں کو خداوند تعالیٰ نے کفار سے لڑنے کی اجازت دے دی مگر ابتداء میں یہ اجازت مشروط تھی یعنی صرف انہیں کافروں سے جنگ کرنے کی اجازت تھی جو مسلمانوں پر حملہ کریں۔ مسلمانوں کو ابھی تک اس کی اجازت نہیں ملی تھی کہ وہ جنگ میں اپنی طرف سے پہل کریں لیکن حق واضح ہو جانے اور باطل ظاہر ہو جانے کے بعد چونکہ تبلیغ حق اور احکام الٰہی کی نشر و اشاعت حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم پر فرض تھی اس لئے تمام اُن کفار سے جو عناد کے طور پر حق کو قبول کرنے سے انکار کرتے تھے جہاد کا حکم نازل ہو گیا خواہ وہ مسلمانوں سے لڑنے میں پہل کریں یا نہ کریں کیونکہ حق کے ظاہر ہو جانے کے بعد حق کو قبول کرنے کے لئے مجبور کرنا اور باطل کو جبراً ترک کرانا یہ عین حکمت اور بنی نوع انسان کی صلاح و فلاح کے لئے انتہائی ضروری تھا۔ بہر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ ہجرت کے بعد جتنی لڑائیاں بھی ہوئیں اگر پورے ماحول کو گہری نگاہ سے بغور دیکھا جائے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب لڑائیاں کفار کی طرف سے مسلمانوں کے سر پر مسلط کی گئیں اور غریب مسلمان بدرجۂ مجبوری تلوار اٹھانے پر مجبور ہوئے۔ مثلاً مندرج ذیل چند واقعات پر ذرا تنقیدی نگاہ سے نظر ڈالیے۔
 
(۱)
حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اپنا سب کچھ مکہ میں چھوڑ کر انتہائی بیکسی کے عالم میں مدینہ چلے آئے تھے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ کفار مکہ اب اطمینان سے بیٹھ رہتے کہ ان کے دشمن یعنی رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور مسلمان ان کے شہر سے نکل گئے مگر ہوا یہ کہ ان کافروں کے غیظ و غضب کا پارہ اتنا چڑھ گیا کہ اب یہ لوگ اہل مدینہ کے بھی دشمن جان بن گئے۔ چنانچہ ہجرت کے چند روز بعد کفار مکہ نے رئیس انصار ” عبداﷲ بن ابی ” کے پاس دھمکیوں سے بھرا ہوا ایک خط بھیجا۔ ” عبداﷲ بن ابی ” وہ شخص ہے کہ واقعۂ ہجرت سے پہلے تمام مدینہ والوں نے اس کو اپنا بادشاہ مان کر اس کی تاج پوشی کی تیاری کر لی تھی مگر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے کے بعد یہ اسکیم ختم ہو گئی۔ چنانچہ اسی غم و غصہ میں عبداﷲ بن اُبی عمر بھر منافقوں کا سردار بن کر اسلام کی بیخ کنی کرتا رہا اور اسلام و مسلمانوں کے خلاف طرح طرح کی سازشوں میں مصروف رہا۔
(بخاری باب التسليم فی مجلس فی اخلاط ج۲ ص۹۲۴)
 
بہر کیف کفار مکہ نے اس دشمن اسلام کے نام جو خط لکھا اس کا مضمون یہ ہے کہ تم نے ہمارے آدمی (محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو اپنے یہاں پناہ دے رکھی ہے ہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ یا تو تم لوگ ان کو قتل کر دو یا مدینہ سے نکال دو ورنہ ہم سب لوگ تم پر حملہ کر دیں گے اور تمہارے تمام لڑنے والے جوانوں کو قتل کرکے تمہاری عورتوں پر تصرف کریں گے۔
(ابو داؤد ج۲ ص۶۷ باب فی خبر النفير)
 
جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو کفار مکہ کے اس تہدید آمیز اور خوفناک خط کی خبر معلوم ہوئی تو آپ نے عبداﷲ بن اُبی سے ملاقات فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ ” کیا تم اپنے بھائیوں اور بیٹوں کو قتل کرو گے۔ ” چونکہ اکثر انصار دامن اسلام میں آ چکے تھے اس لئے عبداﷲ بن اُبی نے اس نکتہ کو سمجھ لیا اور کفار مکہ کے حکم پر عمل نہیں کر سکا۔
 
(۲)
ٹھیک اسی زمانے میں حضرت سعد بن معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جو قبیلہ اوس کے سردار تھے عمرہ ادا کرنے کے لئے مدینہ سے مکہ گئے اور پرانے تعلقات کی بنا پر ” اُمیہ بن خلف ” کے مکان پر قیام کیا۔ جب اُمیہ ٹھیک دوپہر کے وقت ان کو ساتھ لے کر طوافِ کعبہ کے لئے گیا تو اتفاق سے ابوجہل سامنے آ گیا اور ڈانٹ کر کہا کہ اے اُمیہ ! یہ تمہارے ساتھ کون ہے ؟ اُمیہ نے کہا کہ یہ مدینہ کے رہنے والے ” سعد بن معاذ ” ہیں۔ یہ سن کر ابوجہل نے تڑپ کر کہا کہ تم لوگوں نے بے دھرموں (محمد صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور صحابہ) کو اپنے یہاں پناہ دی ہے۔ خدا کی قسم ! اگر تم اُمیہ کے ساتھ میں نہ ہوتے تو بچ کر واپس نہیں جا سکتے تھے۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی انتہائی جرأت اور دلیری کے ساتھ یہ جواب دیا کہ اگر تم لوگوں نے ہم کو کعبہ کی زیارت سے روکا تو ہم تمہاری شام کی تجارت کا راستہ روک دیں گے۔
(بخاری کتاب المغازی ج۲ ص۵۶۳ )
 
(۳)
کفارِ مکہ نے صرف انہی دھمکیوں پر بس نہیں کیا بلکہ وہ مدینہ پر حملہ کی تیاریاں کرنے لگے اور حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے قتل عام کا منصوبہ بنانے لگے۔ چنانچہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم راتوں کو جاگ جاگ کر بسر کرتے تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپ کا پہرہ دیا کرتے تھے۔ کفار مکہ نے سارے عرب پر اپنے اثر و رسوخ کی وجہ سے تمام قبائل میں یہ آگ بھڑکا دی تھی کہ مدینہ پر حملہ کر کے مسلمانوں کو دنیا سے نیست و نابود کرنا ضروری ہے۔
 
مذکورہ بالا تینوں وجوہات کی موجودگی میں ہر عاقل کو یہ کہنا ہی پڑے گا کہ ان حالات میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو حفاظت خود اختیاری کے لئے کچھ نہ کچھ تدبیر کرنی ضروری ہی تھی تا کہ انصار و مہاجرین اور خود اپنی زندگی کی بقاء اور سلامتی کا سامان ہو جائے۔
 
چنانچہ کفارِ مکہ کے خطرناک ارادوں کا علم ہو جانے کے بعد حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی اور صحابہ کی حفاظت خود اختیاری کے لئے دو تدبیروں پر عمل درآمد کا فیصلہ فرمایا۔
 
اوّل :۔یہ کہ کفار مکہ کی شامی تجارت جس پر ان کی زندگی کا دارومدار ہے اس میں رکاوٹ ڈال دی جائے تا کہ وہ مدینہ پر حملہ کا خیال چھوڑ دیں اور صلح پر مجبور ہو جائیں۔
 
دوم :۔یہ کہ مدینہ کے اطراف میں جو قبائل آباد ہیں ان سے امن و امان کا معاہدہ ہو جائے تا کہ کفار مکہ مدینہ پر حملہ کی نیت نہ کر سکیں۔ چنانچہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے انہی دو تدبیروں کے پیش نظر صحابہ کرام کے چھوٹے چھوٹے لشکروں کو مدینہ کے اطراف میں بھیجنا شروع کر دیااور بعض بعض لشکروں کے ساتھ خود بھی تشریف لے گئے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے یہ چھوٹے چھوٹے لشکر کبھی کفار مکہ کی نقل و حرکت کا پتہ لگانے کے لئے جاتے تھے اور کہیں بعض قبائل سے معاہدۂ امن و امان کرنے کے لئے روانہ ہوتے تھے۔ کہیں اس مقصد سے بھی جاتے تھے کہ کفارِ مکہ کی شامی تجارت کا راستہ بند ہو جائے۔ اسی سلسلہ میں کفارِ مکہ اور ان کے حلیفوں سے مسلمانوں کا ٹکراؤ شروع ہوا اور چھوٹی بڑی لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا انہی لڑائیوں کو تاریخ اسلام میں ” غزوات و سرایا ” کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے۔
 
غزوہ و سریّہ کا فرق :۔
 
یہاں مصنفین سیرت کی یہ اصطلاح یاد رکھنی ضروری ہے کہ وہ جنگی لشکر جس کے ساتھ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم بھی تشریف لے گئے اس کو ” غزوہ ” کہتے ہیں اور وہ لشکروں کی ٹولیاں جن میں حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام شامل نہیں ہوئے ان کو ” سرِیّہ ” کہتے ہیں۔
(مدارج النبوة ج۲ ص۷۶ وغيره )
 
“غزوات ” یعنی جن جن لشکروں میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم شریک ہوئے ان کی تعداد میں مورخین کا اختلاف ہے۔ ” مواہب لدنیہ ” میں ہے کہ ” غزوات ” کی تعداد ” ستائیس ” ہے اور روضۃ الاحباب میں یہ لکھا ہے کہ ” غزوات کی تعداد ” ایک قول کی بنا پر ” اکیس ” اور بعض کے نزدیک ” چوبیس ” ہے اور بعض نے کہا کہ ” پچیس ” اور بعض نے لکھا ” چھبیس ” ہے۔
(زرقانی علی المواهب ج۱ ص۳۸۸)
 
مگر حضرت امام بخاری نے حضرت زید بن ارقم صحابی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے جو روایت تحریر کی ہے اس میں غزوات کی کل تعداد ” انیس ” بتائی گئی ہے اور ان میں سے جن نو غزوات میں جنگ بھی ہوئی وہ یہ ہیں :۔
 
(۱)
 جنگ بدر (۲) جنگ اُحد (۳) جنگ احزاب (۴) جنگ بنو قریظہ (۵) جنگ بنو المصطلق (۶) جنگ خیبر (۷) فتح مکہ (۸) جنگ حنین(۹) جنگ طائف
 
“سرایا ” یعنی جن لشکروں کیساتھ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم تشریف نہیں لے گئے ان کی تعداد بعض مورخین کے نزدیک ” سینتالیس ” اور بعض کے نزدیک ” چھپن ” ہے۔
 
امام بخاری نے محمد بن اسحق سے روایت کیا ہے کہ سب سے پہلا غزوہ ” ابواء ” اور سب سے آخری غزوہ “تبوک” ہے اور سب سے پہلا “سریہ” جو مدینہ سے جنگ کے لیے روانہ ہوا وہ ” سریۂ حمزہ ” ہے جس کا ذکر آگے آتا ہے۔
 
غزوات و سرایا :۔
 
ہجرت کے بعد کا تقریباً کل زمانہ ” غزوات و سرایا ” کے اہتمام و انتظام میں گزرااس لیے کہ اگر” غزوات ” کی کم سے کم تعداد جو روایات میں آئی ہے۔ یعنی ” انیس ” اور ” سرایا ” کی کم سے کم تعداد جو روایتوں میں ہے یعنی ” سینتالیس ” شمار کرلی جائے تو نو سال میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو چھوٹی بڑی ” چھیاسٹھ ” لڑائیوں کا سامنا کرنا پڑا لہٰذا ” غزوات وسرایا ” کا عنوان حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی سیرتِ مقدسہ کا بہت ہی عظیم الشان حصہ ہے اور بحمدہ تعالیٰ ان تمام غزوات و سرایا اور ان کے وجوہ و اسباب کا پورا پورا حال اسلامی تاریخوں میں مذکور و محفوظ ہے، مگر یہ اتنا لمبا چوڑا مضمون ہے کہ ہماری اس کتاب کا تنگ دامن ان تمام مضامین کو سمیٹنے سے بالکل ہی قاصر ہے لیکن بڑی مشکل یہ ہے کہ اگر ہم بالکل ہی ان مضامین کو چھوڑ دیں تو یقینا ” سیرتِ رسول ” کا مضمون بالکل ہی ناقص اور نامکمل رہ جائے گا اس لیے مختصر طور پر چند مشہور غزوات و سرایا کا یہاں ذکر کر دینا نہایت ضروری ہے تاکہ سیرتِ مقدسہ کا یہ اہم باب بھی ناظرین کے لیے نظر افروز ہو جائے۔
 
جنگ ِ بدر :۔
 
Jang-e-Badar
 بدر مدینہ منورہ سے تقریباً اسّی میل کے فاصلہ پر ایک گاؤں کا نام ہے جہاں زمانۂ جاہلیت میں سالانہ میلہ لگتا تھا۔ یہاں ایک کنواں بھی تھا جس کے مالک کا نام ” بدر ” تھا اسی کے نام پر اس جگہ کا نام ” بدر ” رکھ دیا گیا۔ اسی مقام پر جنگ ِ بدر کا وہ عظیم معرکہ ہوا جس میں کفار ِ قریش اور مسلمانوں کے درمیان سخت خونریزی ہوئی اور مسلمانوں کو وہ عظیم الشان فتح مبین نصیب ہوئی جس کے بعد اسلام کی عزت و اقبال کا پرچم اتنا سر بلند ہوگیا کہ کفار قریش کی عظمت و شوکت بالکل ہی خاک میں مل گئی۔ اﷲ تعالیٰ نے جنگ بدر کے دن کا نام ” یومُ الفرقان ” رکھا۔ قرآن کی سورۂ انفال میں تفصیل کے ساتھ اور دوسری سورتوں میں اجمالاً بار بار اس معرکہ کا ذکر فرمایا اور اس جنگ میں مسلمانوں کی فتح مبین کے بارے میں احسان جتاتے ہوئے خداوند عالم نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ
 
وَ لَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ ج فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ
 
اور یقینا خداوند تعالیٰ نے تم لوگوں کی مدد فرمائی بدر میں جبکہ تم لوگ کمزور اور بے سر و سامان تھے تو تم لوگ اﷲ سے ڈرتے رہو تاکہ تم لوگ شکر گزار ہو جاؤ۔
 
جنگ بدر کا سبب :۔
 
جنگ ِ بدر کا اصلی سبب تو جیسا کہ ہم تحریر کر چکے ہیں “عمرو بن الحضرمی” کے قتل سے کفار قریش میں پھیلا ہوا زبردست اشتعال تھا جس سے ہر کافر کی زبان پر یہی ایک نعرہ تھا کہ 
” خون کا بدلہ خو ن لے کر رہیں گے۔”
 
مگر بالکل نا گہاں یہ صورت پیش آگئی کہ قریش کا وہ قافلہ جس کی تلاش میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم مقام ” ذی العشیرہ ” تک تشریف لے گئے تھے مگر وہ قافلہ ہاتھ نہیں آیا تھا بالکل اچانک مدینہ میں خبر ملی کہ اب وہی قافلہ ملک شام سے لوٹ کر مکہ جانے والا ہے اور یہ بھی پتہ چل گیا کہ اس قافلہ میں ابو سفیان بن حرب و مخرمہ بن نوفل و عمرو بن العاص وغیرہ کل تیس یا چالیس آدمی ہیں اور کفار قریش کا مال تجارت جو اس قافلہ میں ہے وہ بہت زیادہ ہے۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ کفار قریش کی ٹولیاں لوٹ مار کی نیت سے مدینہ کے اطراف میں برابر گشت لگاتی رہتی ہیں اور ” کرز بن جابر فہری ” مدینہ کی چراگاہوں تک آکر غارت گری اور ڈاکہ زنی کر گیا ہے لہٰذا کیوں نہ ہم بھی کفار قریش کے اس قافلہ پر حملہ کر کے اس کو لوٹ لیں تاکہ کفار قریش کی شامی تجارت بند ہو جائے اور وہ مجبور ہو کر ہم سے صلح کر لیں۔ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی سن کر انصار و مہاجرین اس کے لیے تیار ہوگئے۔
 
مدینہ سے روانگی :۔
 
چنانچہ ۱۲ رمضان ۲ ھ کو بڑی عجلت کے ساتھ لوگ چل پڑے، جو جس حال میں تھااسی حال میں روانہ ہو گیا۔ اس لشکر میں حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے ساتھ نہ زیادہ ہتھیار تھے نہ فوجی راشن کی کوئی بڑی مقدار تھی کیونکہ کسی کو گمان بھی نہ تھا کہ اس سفر میں کوئی بڑی جنگ ہوگی۔
 
مگر جب مکہ میں یہ خبر پھیلی کہ مسلمان مسلح ہو کر قریش کا قافلہ لوٹنے کے لئے مدینہ سے چل پڑے ہیں تو مکہ میں ایک جوش پھیل گیا اور ایک دم کفار قریش کی فوج کا دل بادل مسلمانوں پر حملہ کر نے کے لیے تیار ہو گیا۔ جب حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو جمع فرما کر صورتِ حال سے آگاہ کیا اور صاف صاف فرما دیا کہ ممکن ہے کہ اس سفر میں کفار قریش کے قافلہ سے ملاقات ہو جائے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کفار مکہ کے لشکر سے جنگ کی نوبت آجائے۔ ارشاد گرامی سن کر حضرت ابوبکر صدیق و حضرت عمر فاروق اور دوسرے مہاجرین نے بڑے جوش و خروش کا اظہار کیا مگر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم انصار کا منہ دیکھ رہے تھے کیونکہ انصار نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے دست مبارک پر بیعت کرتے وقت اس بات کا عہد کیا تھا کہ وہ اس وقت تلوار اٹھائیں گے جب کفار مدینہ پر چڑھ آئیں گے اور یہاں مدینہ سے باہر نکل کر جنگ کرنے کا معاملہ تھا۔
 
انصار میں سے قبیلۂ خزرج کے سردار حضرت سعد بن عبادہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا چہرۂ انور دیکھ کر بول اٹھے کہ یا رسول اﷲ ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کیا آپ کا اشارہ ہماری طرف ہے ؟ خدا کی قسم ! ہم وہ جاں نثار ہیں کہ اگر آپ کا حکم ہو تو ہم سمندر میں کود پڑیں اسی طرح انصار کے ایک اور معزز سردار حضرت مقداد بن اسود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جوش میں آکر عرض کیا کہ یا رسول اﷲ ! صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی طرح یہ نہ کہیں گے کہ آپ اور آپ کا خدا جا کر لڑیں بلکہ ہم لوگ آپ کے دائیں سے، بائیں سے، آگے سے، پیچھے سے لڑیں گے۔ انصار کے ان دونوں سرداروں کی تقریر سن کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا۔
(بخاری غزوه بدر ج۲ ص۵۶۴)
 
مدینہ سے ایک میل دور چل کر حضور صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنے لشکر کا جائزہ لیا، جو لوگ کم عمر تھے ان کو واپس کر دینے کا حکم دیا کیونکہ جنگ کے پر خطر موقع پر بھلا بچوں کا کیا کام ؟
 
ننھا سپاہی :۔
 
مگر انہی بچوں میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے چھوٹے بھائی حضرت عمیر بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے۔ جب ان سے واپس ہونے کو کہا گیا تو وہ مچل گئے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے اور کسی طرح واپس ہونے پر تیار نہ ہوئے۔ ان کی بے قراری اور گریہ و زاری دیکھ کر رحمت عالم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کا قلب نازک متاثر ہو گیا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان کو ساتھ چلنے کی اجازت دے دی۔ چنانچہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس ننھے سپاہی کے گلے میں بھی ایک تلوار حمائل کر دی مدینہ سے روانہ ہونے کے وقت نمازوں کے لئے حضرت ابن اُمِ مکتوم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو آپ نے مسجد نبوی کا امام مقرر فرما دیا تھا لیکن جب آپ مقام ” روحا ” میں پہنچے تو منافقین اور یہودیوں کی طرف سے کچھ خطرہ محسوس فرمایا اس لئے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت ابو لبابہ بن عبدالمنذر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو مدینہ کا حاکم مقرر فرما کر ان کو مدینہ واپس جانے کا حکم دیا اور حضرت عاصم بن عدی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو مدینہ کے چڑھائی والے گاؤں پر نگرانی رکھنے کا حکم صادر فرمایا۔
 
ان انتظامات کے بعد حضورِ اکرم صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم “بدر” کی جانب چل پڑے جدھر سے کفار مکہ کے آنے کی خبر تھی۔ اب کل فوج کی تعداد تین سو تیرہ تھی جن میں ساٹھ مہاجراور باقی انصار تھے۔ منزل بہ منزل سفر فرماتے ہوئے جب آپ مقام “صفرا” میں پہنچے تو دو آدمیوں کو جاسوسی کے لئے روانہ فرمایا تا کہ وہ قافلہ کا پتہ چلائیں کہ وہ کدھر ہے؟ اور کہاں تک پہنچا ہے ؟
 
کفار قریش کا جوش :۔
 
جب مکہ میں یہ خوفناک خبر پہنچی تو اس قدر ہل چل مچ گئی کہ مکہ کا سارا امن و سکون غارت ہو گیا، تمام قبائل قریش اپنے گھروں سے نکل پڑے، سرداران مکہ میں سے صرف ابولہب اپنی بیماری کی وجہ سے نہیں نکلا، اس کے سوا تمام روساء قریش پوری طرح مسلح ہو کر نکل پڑے اور چونکہ مقام نخلہ کا واقعہ بالکل ہی تازہ تھا جس میں عمرو بن الحضرمی مسلمانوں کے ہاتھ سے مارا گیا تھا اور اس کے قافلہ کو مسلمانوں نے لوٹ لیا تھا اس لئے کفار قریش جوش انتقام میں آپے سے باہر ہو رہے تھے۔ ایک ہزار کا لشکر جرار جس کا ہر سپاہی پوری طرح مسلح، دوہرے ہتھیار، فوج کی خوراک کا یہ انتظام تھا کہ قریش کے مالدار لوگ یعنی عباس بن عبدالمطلب، عتبہ بن ربیعہ، حارث بن عامر، نضر بن الحارث، ابوجہل، اُمیہ وغیرہ باری باری سے روزانہ دس دس اونٹ ذبح کرتے تھے اور پورے لشکر کو کھلاتے تھے عتبہ بن ربیعہ جو قریش کا سب سے بڑا رئیس اعظم تھا اس پورے لشکر کا سپہ سالار تھا۔
 
ابو سفیان بچ کر نکل گیا :۔
 
ابو سفیان جب عام راستہ سے مڑ کر ساحل سمندر کے راستہ پر چل پڑا اور خطرہ کے مقامات سے بہت دور پہنچ گیا اور اس کو اپنی حفاظت کا پورا پورا اطمینان ہوگیا تو اس نے قریش کو ایک تیز رفتار قاصد کے ذریعہ خط بھیج دیا کہ تم لوگ اپنے مال اور آدمیوں کو بچانے کے لئے اپنے گھروں سے ہتھیار لے کر نکل پڑے تھے اب تم لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ جاؤ کیونکہ ہم لوگ مسلمانوں کی یلغار اور لوٹ مار سے بچ گئے ہیں اور جان و مال کی سلامتی کے ساتھ ہم مکہ پہنچ رہے ہیں۔
 
کفار میں اختلاف :۔
 
ابو سفیان کا یہ خط کفار مکہ کو اس وقت ملا جب وہ مقام ” جحفہ ” میں تھے۔ خط پڑھ کر قبیلۂ بنو زہرہ اور قبیلۂ بنو عدی کے سرداروں نے کہا کہ اب مسلمانوں سے لڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے لہٰذا ہم لوگوں کو واپس لوٹ جانا چاہیے۔ یہ سن کر ابوجہل بگڑ گیا اور کہنے لگا کہ ہم خدا کی قسم ! اسی شان کے ساتھ بدر تک جائیں گے، وہاں اونٹ ذبح کریں گے اور خوب کھائیں گے، کھلائیں گے، شراب پئیں گے، ناچ رنگ کی محفلیں جمائیں گے تا کہ تمام قبائل عرب پر ہماری عظمت اور شوکت کا سکہ بیٹھ جائے اور وہ ہمیشہ ہم سے ڈرتے رہیں۔ کفار قریش نے ابوجہل کی رائے پر عمل کیا لیکن بنو زہرہ اور بنو عدی کے دونوں قبائل واپس لوٹ گئے۔ ان دونوں قبیلوں کے سوا باقی کفار قریش کے تمام قبائل جنگ بدر میں شامل ہوئے۔

Comments

comments

Updated: 08/25/2016 — 1:39 pm

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Islamik Book © 2018